نئی دہلی،8؍اکتوبر (ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا) پٹرول، ڈیزل کے دام میں ایک بار پھر اضافہ کا رخ بنا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمت ایک بار پھر تین ہفتوں کے اعلیٰ سطح تک پہنچ گئی ہے ۔ ایکسائز ڈیوٹی کاٹ کر اور سرکاری تیل کمپنیوں کی ایک روپے سبسڈی دیئے جانے کے بعد ایندھن کی قیمت میں یہ اضافہ ہوا ہے ۔ کٹوتی کے بعد دو دن میں پٹرول 32 پیسے فی لیٹر، وہیں ڈیزل کی قیمت 58 پیسے بڑھی ہے ۔ پٹرول۔ ڈیزل کی قیمتوں میں چار اکتوبر کو کم از کم 2.50 روپے کی کمی کی گئی تھی۔ مرکزی حکومت نے جہاں ایکسائز ڈیوٹی میں 1.50 روپے لیٹر کی کمی کی تھی، وہیں عوامی شعبہ کی پٹرولیم مارکیٹنگ کمپنیوں نے پیٹرول، ڈیزل پر ایک روپے فی لیٹر سبسڈی دی تھی۔ بی جے پی حکومت والی ریاستوں میں کمی زیادہ ہوئی ؛کیونکہ ان ریاستوں میں مقامی ٹیکس یا وی اے ٹی میں بھی ڈھائی روپے کمی ہوئی ہے۔ یعنی ان ریاستوں میں دام پانچ روپے گھٹے ہیں۔ اس کمی کے اگلے دن ہی قیمتوں میں اضافہ ہونے لگا ہے۔ پبلک سیکٹر کی تیل کمپنیوں کی طرف سے جاری کی ریٹ نوٹیفکیشن کے مطابق پٹرول کی قیمت میں ہفتہ کو 18 پیسے اور اتوار سات اکتوبر کو 14 پیسے لیٹر کا اضافہ ہوا ہے۔ قیمت میں کمی کے بعد دہلی میں پیٹرول 81.50 روپے فی لیٹر رہ گیا تھا، وہیں اتوار کو یہ 81.82 روپے لیٹر تک پہنچ گیا۔ اسی طرح ڈیزل کی قیمت میں چھ اکتوبر اور سات اکتوبر کو 29۔29 پیسے اضافہ ہوا ہے۔ اس اضافے کے بعد ڈیزل کے دام 73.53 روپے لیٹر ہوگئے جو پانچ اکتوبر کو 72.85 روپے لیٹر پر تھے۔ دہلی میں پٹرولیم پر وی اے ٹی کاٹی نہیں گئی تھی اس کے باوجود میٹرو شہر کے مقابلے میں قومی دارالحکومت میں پٹرول اور ڈیزل سستا ہے۔ ممبئی میں وی اے ٹی میں کمی کے باوجود پیٹرول کی قیمت سب سے زیادہ ہے۔